تازہ تر ین

پرویزرشید‘چودھری نثار آمنے سامنے

عبدالقدوس منہاس قلم قتلے
بلوچستان میں ن لیگی ارکان ہی اپنی حکومت کو لے ڈوبے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ اور وفاقی وزراءکی طرف سے بھاری نذرانہ بھی ثنااﷲ زہری کی حکومت کو نہ بچا سکا۔ بلوچستان میں 5 ارکان کی اکثریت رکھنے والی جماعت ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو کا 41 ارکان کی حمایت سے منتخب ہونا معنی خیز ہے۔ خبر ہے کہ محمود خان اچکزئی کے بھائی گورنر بلوچستان کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تا ہم یہ ابتداءہے۔ آئندہ چند دنوں میں بلوچستان سے اٹھنے والی تبدیلی کی یہ لہر وفاق اور پنجاب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس حوالے سے جنوری کا آخری اور فروری کا پہلا عشرہ انتہائی اہم ہے۔ ایک طرف سے حکومتی ارکان پارٹی قیادت کے خلاف بناوٹ کے جھنڈے لہرائیں گے اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے استعفوں کی بارش ہو گی ان استعفوں میں لیگی ارکان کے استعفے بھی شامل ہوں گے جس کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت کا وجود بیشک خطرے میں نہ پڑے مگر باقی ماندہ عرصہ کیلئے دونوں حکومتوں کو نہ صرف شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ سینٹ الیکشن اور عام انتخابات کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
پرویز رشید کی جانب سے چودھری نثار کے خلاف تندوتیز بیانات بھی اس سلسلے کی کڑی ہے کہ امکانی طور پر مرکز میں باغی دھڑے کی قیادت انہی کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے اندرون خانہ حالات سے واقفان کا دعویٰ ہے کہ دھڑے کو 60 سے 62 ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ ریاض پیرزادہ کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے نواز شریف کے سوال ”مجھے کیوں نکالا“ کے جواب میں اپنے پارٹی لیڈر کو واشگاف الفاظ میں بتایا کہ انہیں کیوں نکالا گیا۔ نظرانداز کرنے والی بات نہیں ریاض پیر زادہ ختم نبوت کے خلف نامے میں تبدیلی پر بھی اپنے لیڈر نواز شریف کو بڑی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اور یہ بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل واقعہ ہے۔
پنجاب اسمبلی میں ایک باغی دھڑا پنپ رہا ہے جس کے خدوخال اندرون خانہ واضح ہو چکے ہیں مگر باغی گروپ ابھی کھل کر اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے گریزاں ہے اور تیل کی دھار دیکھ رہا ہے مرکز میں بناوٹ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں یہ گروپ زیادہ سرگرمی سے سامنے آئے گا۔ جس کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت شاید اپنے پاﺅں پر کھڑی نہ رہ سکے۔ اس ساری صورتحال میں آصف زرداری کا کردار بھی بہت اہم ہے اور وہ کسی بھی وقت اپوزیشن کی گود سے اٹھ کر حکومت کے کیمپ میں جا سکتے ہیں۔ جس کیلئے انہوں نے ٹاسک بھی پورا کر لیا ہے۔ آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے واضح طور پر سینٹ الیکشن میں رخنہ اندازی کی مخالفت کی ہے جبکہ اپنی بہن فریال تالپور کو چیئرمین سینیٹ کے عہدہ کیلئے ذہنی طور پر نامزد بھی کرچکے ہیں، حکومت کو اپنی خدمات وہ اسی شرط پر پیش کرکے حکومت کو وقتی طور پر سہارا دے سکتے ہیں اور جمہوریت کے نام پر شریف خاندان کی آمریت کو بچا سکتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ سینیٹ الیکشن کا انعقاد ہی ممکن نہ ہوسکے یا بہت سے لوگوں کی آس امید پر اوس پڑجائے۔
لاہور میں طاہرالقادری نے اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کو لاکر ایک سٹیج پر بٹھادیا ۔ تاہم پنجاب حکومت کے جن وجوہ پراوسان خطا ہورہے تھے طاہر القادری کی طرف سے ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے فیصلہ اے پی سی کی ایکشن کمیٹی کے سپرد کردیا ہے جو آئندہ چند روز میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔ جس کے بعد حکومت مخالف تحریک کا نیا اور فیصلہ کن راﺅنڈ شروع ہوگا۔ اس راﺅنڈ میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان بھی ممکن ہے جس کی ابتداءشیخ رشید استعفیٰ کا اعلان کرکے کرچکے ہیں۔
یہ کالم قارئین کی نظروں میں آنے سے قبل شاید ایکشن کمیٹی نئے لائحہ عمل کا اعلان کرچکی ہو جس کے تحت طویل دھرنے‘ جاتی امرا کی طرف لانگ مارچ کا اعلان بھی ہوسکتا ہے۔ اب دیکھیں استعفوں کی برسات کہاں کہاں برستی ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ رواں ماہ کے آخری عشرے اور آئندہ ماہ کے پہلے عشرے میں استعفوں کی ہوا چلے گی اور ایسی چلے گی کہ شاید وفاقی اور پنجاب حکومت کو اڑا لے جائے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭



خاص خبریں


america flag

سائنس اور ٹیکنالوجی



تازہ ترین ویڈیوز



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv