تازہ تر ین

فیصلہ خلاف آنے پر نیا وزیراعظم کون ہو گا ، لیگی قیادت متفق ہو گئی

لاہور‘ اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) مسلم لیگ ن کی قیادت اور شریف خاندان کو ایک جانب تو سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پانامہ عملدرآمد کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقات میں روز بروز پیشیوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب پانامہ پیپرز کیس کے منطقی انجام سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کیلئے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت کا خیال ہے کہ کسی بھی غیرمتوقع فیصلے کے بعد بھی مسلم لیگ ن اپنی مدت اقتدار پوری کرے تاکہ بجلی بحران کے خاتمے کیلئے اور دیگر ترقیاتی پروگرامز کیلئے لگائے جانے والے بڑے منصوبے مکمل ہوسکیں۔ اسی طرح دیگر ترقیاتی منصوبوں کا مکمل ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے اقتدار کے آخری سال تک بھی عوام سے کئے ہوئے وعدے یعنی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں کرتی تو آئندہ عام انتخابات میں عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ اسی لئے اگر وزیراعظم نوازشریف کے خلاف جے آئی ٹی کی تحقیقات کی وجہ سے سپریم کورٹ کوئی ایسا فیصلہ سنا دے جس کی وجہ سے وزیراعظم کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے تو ایسی صورت حال میں مسلم لیگ ن کو مدت اقتدار کو پورا کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن میں متوقع وزیراعظم کیلئے حمزہ شہبازشریف کا نام زیرگردش ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت حمزہ شہبازکے نام پر متفق ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کو پارٹی کے سینئر اراکین کی جانب سے یہ مشورہ بھی دیا جارہا ہے کہ پانامہ پیپرز کیس کی وجہ سے پارٹی کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے اس لئے قبل از وقت عام انتخابات مسلم لیگ ن کیلئے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔ وزیراعظم نوازشریف ان چیلنجز کے حوالے سے پارٹی کے سینئر اراکین خاص طور پر اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف سے طویل مشاورت کررہے ہیں اور اس حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی وضع کی جارہی ہے۔ خاص طور پر جے آئی ٹی کی جانب سے مریم نواز اور دوسری بار طارق شفیع کو طلب کئے جانے کے بعد صورتحال پر مشاورت کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مریم نواز کے حوالے سے فیصلے میں کوئی واضح چیز موجود نہیں اس کے باوجود جے آئی ٹی کا مریم نواز کو طلب کرنا باعث اطمینان نہیں ہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن میں جے آئی ٹی کے طریقہ تفتیش پر پہلے بھی تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ مریم نواز کو طلب کئے جانے پر بھی تحفظات پائے جارہے ہیں تاہم مسلم لیگ ن کی قیادت باریک بینی سے صورتحال کا جائزہ لے کر مشاورت کے ساتھ گے بڑھ رہی ہے اور کسی بھی طرح کے فیصلے کے پیش نظر متبادل حکمت عملی بنائی جارہی ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سامنے آئے گی۔ ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کرسکے۔ یہی سبب ہے کہ مریم نواز کو طلب کیا گیا ہے اور ان سے کئے جانے والے سوالات بھی تیار کرلئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ جے آئی ٹی اپنی آؒخری رپورٹ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ دوسری جانب مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے ضرور پیش ہوں گی تاکہ اس کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے جبکہ مریم نواز کی طلبی پر لیگی کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں میں تصادم کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ پانامہ کیس کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کو 5 جولائی کو طلب کرلیا ہے اور ان سے کئے جانے والے سوالات بھی تیار کرلئے ہیں۔ مریم نواز سے قبل ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو جے آئی ٹی نے 24 جون کو طلب کیا تھا لیکن وہ پانامہ پیپرز میں اپنی اہلیہ کا نام آنے کے حوالے سے جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کرسکے۔ اس لئے براہ راست مریم نواز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مریم نواز کو سمن 25 جون کو جاری کیا گیا جس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز کو یہ سمن نہیں ملا لیکن شریف خاندان کی جانب سے سمن ملنے کی تصدیق کے بعد انہوں نے یہ بیان نہیں دہرایا۔ لیگی رہنما طلاق چودھری کے مطابق مریم نواز ان دنوں لندن میں اپنے بیٹے جنید صفدر کی گریجوایشن کی تقریبات میں شرکت کے لئے موجود ہیں۔ طلاق چودھری نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے نہیں پیش ہوں گی۔ خود مریم نواز جو ہر صورتحال پر فوری طور پر ٹویٹ کرتی ہیں‘ جے آئی ٹی کی جانب سے اپنی طلبی پر انہوں نے کوئی ٹویٹ نہیں کیا۔ البتہ اپنے ایک پرستار کے تبصرے کو ری ٹویٹ کیا ہے‘ جس میں لکھا ہے کہ ”بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘ سامنے والے کی بیٹی سے ڈرتا ہے۔“ ادھر لیگی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے ضرور پیش ہوں گی تاکہ وہ اس کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھا سکیں اور عوام کے سامنے کہہ سکیں کہ ایک اکیلی خاتون مردوں کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی۔ تاہم اگر مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے نہیں پیش ہوتیں تو سپریم کورٹ کا یہ حکم ہے کہ ایسے شخص کی گرفتاری کے احکامات جاری کرکے اسے جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس لئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے نہ پیش ہوں۔ سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے 3 اور 4 جولائی کو حسن اور حسین نواز کو ایک بار پھر طلب کیا ہے۔ حسین نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے چھٹی بار اور حسن نواز چوتھی بار پیش ہوں گے۔ ان کی بڑی بہن جے آئی ٹی کے سامنے پہلی بار پیش ہوں گی۔ اب صرف بیگم کلثوم نواز اور وزیراعظم کی والدہ شمیم باقی بچی ہیں جو جے آئی ٹی کے سامنے نہیں پیش ہوئیں۔ مریم نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی سے (ن) لیگ نے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ لیگی کارکنان کی بڑی تعداد جوڈیشل اکیڈمی کے اردگرد موجود رہے گی۔ ایک سوال پر ذرائع کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی سکیورٹی کی ذمہ داری وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ اس لئے کسی قسم کے تصادم کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہی عائد ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اہم بات یہ بھی ہے کہ وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کو جے آئی ٹی نے دوسری بار 2 جولائی کو طلب کیا ہے۔ ان تمام پیشیوں کے بعد توقع ہے کہ جے آئی ٹی اپنی آخری رپورٹ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کا متفقہ فیصلہ سامنے آئے گا۔ اس سے قبل 20 اپریل کے پانامہ پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت نے اس معاملے کی مزید تحقیقات کرنے کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی‘ جس نے وزیراعظم‘ وزیراعلیٰ پنجاب اور نوازشریف کے بیٹوں اور کئی متعلقہ افراد کو طلب کیا تاکہ وزیراعظم کے خاندان پر لگے منی لانڈرنگ کے الزامات کی حقیقت کاعلم ہوسکے۔ عید کے دوسرے دن بھی جے آئی ٹی نے کام کیا اور شریف خاندان کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات حاصل کیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کے گھر کے تقریباً ہر فرد کو طلب کرلیا گیا ہے‘ صرف وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو نہیں بلایا گیا کیونکہ اسحاق ڈار وہ شخصیت ہیں جنہوں نے عدالت کے سامنے بیان حلفی دیا تھا کہ انہوں نے شریف خاندان کے لئے منی لانڈرنگ کی ہے۔ اگرچہ اب اسحاق ڈار انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ بیان دباﺅ میں آکر دیا تھا لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر اس دستاویز کی حیثیت ابھی تک برقرار ہے۔



خاص خبریں


US-dollar-rises

سائنس اور ٹیکنالوجی



تازہ ترین ویڈیوز



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv